پی ڈی آئی اورآئیز این جی او کی جانب سے بجٹ کنسلٹیشن سیشن کا انعقاد

مستونگ: سی پی ڈی آئی اور آئیز این جی اور کی جانب سے ایک روزہ ڈسٹرکٹ بجٹ کنسلٹیشن سیشن کا انعقاد۔ ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ جاری کر دی گئی رپورٹ کے مطابق عوامی شمولیت اور شفافیت کے اعتبار سے بلوچستان میں بجٹ سازی کا عمل انتہائی مایوس کن …

Published in News Room

Local governments fail to include stakeholders in the budget making process

KALAT:  Study has revealed that the local governments (LGs) had failed to include stakeholders in the budget making process. Only 4 out of 20 districts released pre-budget statement that would have provided the stakeholders a chance to express their opinion on budget proposals. This study was shared with participants in a one-day workshop on ‘Study of Budget Making Process at District Level in Balochistan, here in Kalat on Tuesday.   

The ‘Study of Budget Making Process at District Level in Baluchistan ’launched by Centre for Peace and Development Initiatives (CPDI) reveals that Budget Call letters delayed, budget time line is not followed properly, none of the 20 surveyed districts have involved the general public and the stakeholders in budget making. Only 4 districts issued pre-budget statements where the copy was not present for the public, none of the districts has a functional website, 19 out of 20 districts stated that there was no separate budget branch.

Talking about budget transparency, President Human Prosperity organization (HPO) Yousaf Baloch said that districts performance was not enviable at all. Districts are not making use of information technology to share information with citizens; There is not a single district that has a functional website. To aggravate the situation further not a single district issued a citizens’ budget.

“The officials of 19 districts stated that there was no separate budget branch; absence of a separate budget branch could be one of the major causes of delays in budget timelines,” he added.

While talking to the participants of the event Muhammad Asif, provincial coordinator CPDI said that Pre-budget consultation with stakeholders were held in 80% of districts, mainly involving district officers and elected representatives, ignoring citizens and other important segments of society. 

 Ahmed Nawaz Baloch Ex city Nazim, Haleem Mengal, currant opposition leader Municipal Committee(MC) Kalat, District organizer BNP Awami, Haji Qadir Umrani, District assistant Social welfare officie Kalat, Muhammad Iqbal, and secretary general Teacher Association Kalat Agha Athiq Rehman Shah were among the chief participants. The appreciated CPDI’s and HPO efforts for sharing   the study with stakeholders. They emphasized on the dire need of discussion on the district budgets among citizens’ groups, civil society and media for indigenizing the local development agenda. 

Published in The Balochistan Point

چترال میں ضلع سطح پر بجٹ سازی کے حوالے سے ورکشاپ کاانعقاد

چترال۔24 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2018ء) ٹائون ہال چترال میں بجٹ پر مشاورت کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ کاانعقادکیاگیا ،جس میںمنتخب کونسلرز اور یونین کونسل کے دو سیکرٹریو ں نے بھی شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر تیمور شاہ نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اس مشاورتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صاف اور شفاف طریقے سے بجٹ پیش کرنا ہے اور بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے ترجیحات شامل ہیں جو اہم اورضروری ہیں، سی پی ڈ ی آئی جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے وہ صوبے بھر میں بجٹ پر مشاورتی پروگرام منعقد کروارہے ہیں،اس کا بنیادی مقصد بجٹ سازی پر مشاورت کرنا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو نہایت ضروری ہیں۔
مختلف اضلاع میں ضلع سطح پر بجٹ برانچ میں پچاسی آسامیاں خالی ہیں۔

سی پی ڈی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنایا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔

سجاد احمد جو کونسلرز فورم کا صدر بھی ہے نے کہا کہ ہم نے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کے سطح پر متعددمنصوبوں کیلئے بجٹ رکھا تھا وہ کئی بار منقطع ہوا اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے،چند منصوبوں کیلئے بہت تاخیر سے پہلا قسط ریلیز ہوئی مگر اس کے بعد دوسرے قسط میں کوئی فنڈ ہی نہیں آیا۔ انہوںنے کہا کہ اب تو ویلیج کونسل کے پانچ لاکھ روپے کے منصوبوں کو بھی ٹینڈر کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ ان پر پانچ ماہ لگتے ہیںاس میں سے اکثر ٹینڈر منسوح بھی ہوجاتا ہے جس پر مزید پانچ ماہ لگتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ اگر ٹینڈر ہوبھی جائے تو بعض اوقات ٹھیکدار غائب ہوجاتا ہے، ویلیج کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کا پہلا مرحلہ بھی ابھی تک نامکمل ہے، ویلیج کونسل کے سطح پر پانچ لاکھ روپے تک منصوبوں کو ٹینڈر کے بغیر پراجیکٹ لیڈر کے ذریعے مکمل کرنا چاہئے تاکہ فنڈ ضائع نہ ہو اور کام بھی معیاری ہو۔اجلاس میں شرکاء کی تعداد کم ہونے پر انجینئر تیمور شاہ نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا

Published in Passu Times

چترال میں ضلع سطح پر بجٹ سازی کے حوالے سے ورکشاپ کاانعقاد

چترال۔24 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2018ء) ٹائون ہال چترال میں بجٹ پر مشاورت کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ کاانعقادکیاگیا ،جس میںمنتخب کونسلرز اور یونین کونسل کے دو سیکرٹریو ں نے بھی شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر تیمور شاہ نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اس مشاورتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صاف اور شفاف طریقے سے بجٹ پیش کرنا ہے اور بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے ترجیحات شامل ہیں جو اہم اورضروری ہیں، سی پی ڈ ی آئی جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے وہ صوبے بھر میں بجٹ پر مشاورتی پروگرام منعقد کروارہے ہیں،اس کا بنیادی مقصد بجٹ سازی پر مشاورت کرنا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو نہایت ضروری ہیں۔
مختلف اضلاع میں ضلع سطح پر بجٹ برانچ میں پچاسی آسامیاں خالی ہیں۔

سی پی ڈی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنایا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔

سجاد احمد جو کونسلرز فورم کا صدر بھی ہے نے کہا کہ ہم نے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کے سطح پر متعددمنصوبوں کیلئے بجٹ رکھا تھا وہ کئی بار منقطع ہوا اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے،چند منصوبوں کیلئے بہت تاخیر سے پہلا قسط ریلیز ہوئی مگر اس کے بعد دوسرے قسط میں کوئی فنڈ ہی نہیں آیا۔ انہوںنے کہا کہ اب تو ویلیج کونسل کے پانچ لاکھ روپے کے منصوبوں کو بھی ٹینڈر کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ ان پر پانچ ماہ لگتے ہیںاس میں سے اکثر ٹینڈر منسوح بھی ہوجاتا ہے جس پر مزید پانچ ماہ لگتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ اگر ٹینڈر ہوبھی جائے تو بعض اوقات ٹھیکدار غائب ہوجاتا ہے، ویلیج کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کا پہلا مرحلہ بھی ابھی تک نامکمل ہے، ویلیج کونسل کے سطح پر پانچ لاکھ روپے تک منصوبوں کو ٹینڈر کے بغیر پراجیکٹ لیڈر کے ذریعے مکمل کرنا چاہئے تاکہ فنڈ ضائع نہ ہو اور کام بھی معیاری ہو۔اجلاس میں شرکاء کی تعداد کم ہونے پر انجینئر تیمور شاہ نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا

Published in Times of Chitral

چترال میں ضلع سطح پر بجٹ سازی کے حوالے سے ورکشاپ کاانعقاد

چترال۔24 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2018ء) ٹائون ہال چترال میں بجٹ پر مشاورت کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ کاانعقادکیاگیا ،جس میںمنتخب کونسلرز اور یونین کونسل کے دو سیکرٹریو ں نے بھی شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر تیمور شاہ نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اس مشاورتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صاف اور شفاف طریقے سے بجٹ پیش کرنا ہے اور بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے ترجیحات شامل ہیں جو اہم اورضروری ہیں، سی پی ڈ ی آئی جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے وہ صوبے بھر میں بجٹ پر مشاورتی پروگرام منعقد کروارہے ہیں،اس کا بنیادی مقصد بجٹ سازی پر مشاورت کرنا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو نہایت ضروری ہیں۔
مختلف اضلاع میں ضلع سطح پر بجٹ برانچ میں پچاسی آسامیاں خالی ہیں۔

سی پی ڈی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنایا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔

سجاد احمد جو کونسلرز فورم کا صدر بھی ہے نے کہا کہ ہم نے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کے سطح پر متعددمنصوبوں کیلئے بجٹ رکھا تھا وہ کئی بار منقطع ہوا اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے،چند منصوبوں کیلئے بہت تاخیر سے پہلا قسط ریلیز ہوئی مگر اس کے بعد دوسرے قسط میں کوئی فنڈ ہی نہیں آیا۔ انہوںنے کہا کہ اب تو ویلیج کونسل کے پانچ لاکھ روپے کے منصوبوں کو بھی ٹینڈر کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ ان پر پانچ ماہ لگتے ہیںاس میں سے اکثر ٹینڈر منسوح بھی ہوجاتا ہے جس پر مزید پانچ ماہ لگتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ اگر ٹینڈر ہوبھی جائے تو بعض اوقات ٹھیکدار غائب ہوجاتا ہے، ویلیج کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کا پہلا مرحلہ بھی ابھی تک نامکمل ہے، ویلیج کونسل کے سطح پر پانچ لاکھ روپے تک منصوبوں کو ٹینڈر کے بغیر پراجیکٹ لیڈر کے ذریعے مکمل کرنا چاہئے تاکہ فنڈ ضائع نہ ہو اور کام بھی معیاری ہو۔اجلاس میں شرکاء کی تعداد کم ہونے پر انجینئر تیمور شاہ نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا۔

Published in Urdu Point

چترال میں ضلع کے سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشاورت کی گئی۔ مشاورت میں کونسلرز نے شرکت کی۔

چترال(گل حماد فاروقی) ٹاؤن ہال چترال میں بجٹ پر مشاورت یعنی District Level Budhet Consultation پر ایک ایک روزہ ورکشاپ منعقد ہوا جس میں منتحب کونسلرز اور یونین کونسل کے دو سیکرٹریو ں نے بھی شرکت کی۔ ضلعی سطح پر بجٹ کنسلٹیشن کے مشاورتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انجنئیر تیمور شاہ نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اس مشاورتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صاف اور شفاف طریقے سے بجٹ پیش کرنا ہے اور بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے ترجیحات شامل ہیں جو اہم ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ڈ ی آئی جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے وہ صوبے بھر میں بجٹ پر مشاورتی پروگرام منعقد کروارہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بجٹ سازی پر مشاورت کرنا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو نہایت ضروری ہیں۔ محتلف اضلاع میں ضلع سطح پر بجٹ برانچ میں پچاسی آسامیاں حالی ہیں۔ CPDI نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔

سجاد احمد جو کونسلرز فورم کا صدر بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نظامت کے صرف چا ر پانچ ماہ رہ گئے اب اس کا کیا فائدہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ مشاورتی پروگرام پہلے ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کے سطح پر من منصوبوں کیلئے بجٹ رکھا تھا وہ کئی بار منقطع ہوا اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے۔ چند منصوبوں کیلئے بہت تاخیر سے پہلا قسط ریلیز ہوا مگر اس کے بعد دوسرے قسط میں کوئی فنڈ ہی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تو ویلیج کونسل کے پانچ لاکھ روپے کے منصوبوں کو بھی ٹنڈر کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ ٹنڈر پر پانچ ماہ لگتے ہیں اور اکثر ٹنڈر منسوح بھی ہوتا ہے جس پر مزید پانچ ماہ لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹنڈر ہوبھی جائے تو بعض اوقات ٹھیکدار غائب ہوجاتا ہے یا رنگ کرکے کام کو نہایت Below ریٹ پر لیتا ہے جس سے معیار حراب ہوتا ہے۔

Published in Chitral Affairs

چترال میں ضلع کے سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشاورت کی گئی۔ مشاورت میں کونسلرز نے شرکت کی۔

چترال(گل حماد فاروقی) ٹاؤن ہال چترال میں بجٹ مشاورت پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد ہوا جس میں منتحب کونسلرز اور یونین کونسل کے دو سیکرٹریو ں نے بھی شرکت کی۔ ضلعی سطح پر بجٹ کنسلٹیشن کے مشاورتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انجنئیر تیمور شاہ نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اس مشاورتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صاف اور شفاف طریقے سے بجٹ پیش کرنا ہے اور بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے ترجیحات شامل ہیں جو اہم ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ڈ ی آئی جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے وہ صوبے بھر میں بجٹ پر مشاورتی پروگرام منعقد کروارہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بجٹ سازی پر مشاورت کرنا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو نہایت ضروری ہیں۔ محتلف اضلاع میں ضلع سطح پر بجٹ برانچ میں پچاسی آسامیاں حالی ہیں۔ CPDI نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔

سجاد احمد جو کونسلرز فورم کا صدر بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نظامت کے صرف چا ر پانچ ماہ رہ گئے اب اس کا کیا فائدہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ مشاورتی پروگرام پہلے ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کے سطح پر من منصوبوں کیلئے بجٹ رکھا تھا وہ کئی بار منقطع ہوا اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے۔ چند منصوبوں کیلئے بہت تاخیر سے پہلا قسط ریلیز ہوا مگر اس کے بعد دوسرے قسط میں کوئی فنڈ ہی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تو ویلیج کونسل کے پانچ لاکھ روپے کے منصوبوں کو بھی ٹنڈر کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ ٹنڈر پر پانچ ماہ لگتے ہیں اور اکثر ٹنڈر منسوح بھی ہوتا ہے جس پر مزید پانچ ماہ لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹنڈر ہوبھی جائے تو بعض اوقات ٹھیکدار غائب ہوجاتا ہے یا رنگ کرکے کام کو نہایت Below ریٹ پر لیتا ہے جس سے معیار حراب ہوتا ہے۔

Published in Dadbedad

چترال میں ضلع کے سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشاورت کی گئی۔ مشاورت میں کونسلرز نے شرکت کی۔

چترال(گل حماد فاروقی) ٹاؤن ہال چترال میں بجٹ پر مشاورت یعنی District Level Budget Consultation پر ایک ایک روزہ ورکشاپ منعقد ہوا جس میں منتحب کونسلرز اور یونین کونسل کے دو سیکرٹریو ں نے بھی شرکت کی۔ ضلعی سطح پر بجٹ کنسلٹیشن کے مشاورتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انجنئیر تیمور شاہ نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اس مشاورتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صاف اور شفاف طریقے سے بجٹ پیش کرنا ہے اور بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے ترجیحات شامل ہیں جو اہم ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ڈ ی آئی جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے وہ صوبے بھر میں بجٹ پر مشاورتی پروگرام منعقد کروارہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بجٹ سازی پر مشاورت کرنا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو نہایت ضروری ہیں۔ محتلف اضلاع میں ضلع سطح پر بجٹ برانچ میں پچاسی آسامیاں حالی ہیں۔ CPDI نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔
سجاد احمد جو کونسلرز فورم کا صدر بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نظامت کے صرف چا ر پانچ ماہ رہ گئے اب اس کا کیا فائدہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ مشاورتی پروگرام پہلے ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کے سطح پر من منصوبوں کیلئے بجٹ رکھا تھا وہ کئی بار منقطع ہوا اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے۔ چند منصوبوں کیلئے بہت تاخیر سے پہلا قسط ریلیز ہوا مگر اس کے بعد دوسرے قسط میں کوئی فنڈ ہی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تو ویلیج کونسل کے پانچ لاکھ روپے کے منصوبوں کو بھی ٹنڈر کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ ٹنڈر پر پانچ ماہ لگتے ہیں اور اکثر ٹنڈر منسوح بھی ہوتا ہے جس پر مزید پانچ ماہ لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹنڈر ہوبھی جائے تو بعض اوقات ٹھیکدار غائب ہوجاتا ہے یا رنگ کرکے کام کو نہایت Below ریٹ پر لیتا ہے جس سے معیار حراب ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویلیج کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کا پہلا مرحلہ بھی ابھی تک نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلیج کونسل کے سطح پر پانچ لاکھ روپے تک منصوبوں کو ٹنڈر کے بغیر پراجیکٹ لیڈر کے ذریعے مکمل کرنا چاہئے تاکہ فنڈ ضائع نہ ہو اور کام بھی معیاری ہو۔
بعض کونسلران نے شکایت کی کہ اسلام آباد یا پشاور میں بیٹھے ہوئے لوگ اکثر یہاں آتے نہیں ہیں اور صرف حانہ پری کیلئے چترال میں بھی ورکشاپ کراتے ہیں یا کوئی منصوبہ بندی کرتے ہیں جن میں اکثر مقامی لوگوں سے مشاورت ہی نہیں کی جاتی جس کا انجام ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔اجلاس میں شرکاء کی تعداد کم ہونے پر انجنئیر تیمور شاہ نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا۔

Published in City Express