Call for citizens’ participation in budget-making process

SHANGLA: Participants of a seminar held here the other day called for transparency and citizens’ participation in budget-making process at the district level in Khyber Pakhtunkhwa.

The seminar titled ‘district government budget rules 2016’ was organised by Centre for Peace and Development Initiative (CPDI) in Bisham, which was attended by members of local government, social activists and village council secretaries.

“The first draft of the district budget should be presented in April to ensure timely input from citizens,” said Raja Shoaib Akbar, programme manager of CPDI.

He said they had conducted a study which revealed that the budget-making process lacked transparency and citizens’ participation at the district level in the province.

He added that only two districts had functional websites while 85 posts remained vacant in district budget branches.

Shamsul Hadi, CPDI’s KP coordinator, said that the local governments had failed to include stakeholders in budget-making process.

He said none of the districts released pre-budget statement that according to the budget rules was mandatory and would have provided the stakeholders a chance to express their opinion on the budget proposals.

Pre-budget consultation with stakeholders was also not held in 30 per cent of the districts.

According to the budget rules, budget call letter (BCL) must be issued in September as the first step of budget making.

He said the study showed only six districts had issued the BCL till November 15.

Mr Hadi said that the districts were not making use of information technology to share information with citizens, as only two districts had own functional websites.

He said that not a single district issued a citizens budget which was meant to share salient features of the final budget with citizens in easy to understand language.

According to the officials, the budget branches in districts also faced shortage of human resource.

Published in Dawn

Citizens’ participation in budget-making process urged

SHANGLA: Participants in a seminar in Shangla urged transparency and citizens’ participation in the budget-making process a district level in Khyber Pakhtunkhwa, a study report revealed transparency and citizen’s participation in the budget-making process was found lacking at the district level in Khyber Pakhtunkhwa.
A seminar was organized by Center for peace and development initiative CPDI here at Bisham on Wednesday, which was attended by members of local government, social activists, village secretaries and other local people.
“District Government Budget Rules 2016”, transparency and citizens’ participation in the budget-making the process at the district level in KP. The first draft of the district budget should be presented in April to ensure timely input from citizens,” said Raja Shoaib Akbar, Senior Programme Manager at the CPDI, while sharing the details of the study with partner organizations.
He said that CPDI had conducted a budget study which has revealed transparency and citizen’s participation in the budget-making process was found lacking at the district level in Khyber Pakhtunkhwa.
He added that budget Call letters were delayed; consultation with relevant stake holders not held, only two districts had functional websites and 85 posts remained vacant in district budget branches while in 10 districts deputy officer planning seat vacant during last fiscal year.
Shamsul Hadi Provincial Coordinator KP Centre for Peace and Development Initiatives (CPDI) said that Budget is the most important policy document of the government, in the modern day, state policies are supposed to be formulated through active public participation. Divulging the details, he said the local governments (LGs) had failed to include stakeholders in the budget-making process.

Published in The Northern Post

(ضلع کونسل سمیت بلدیاتی اداروں کے بجٹ مشاورت میں عوامی شمولیت یقینی بنایا جائے (سی پی ڈی آئی ، وانگ لسبیلہ

حب،
حب میں سی پی ڈی آئی اور وانگ کے زیراہتمام بجٹ سازی میں عوامی شمولیت پر ورکشاپ کا انعقاد،ورکشاپ میں سرکاری آفسیران،مقامی حکومت کے نمائندوں و سول سوسائٹی کے رہنماوں کی شرکت ورکشاپ کے شرکا سے وانگ کے کوآڈنیٹر خلیل رونجھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشییٹوز (سی پی ڈی آئی) کی طرف سے آغاز کردہ مطالعاتی جائزے کے مطابق سروے میں شامل 20 اضلاع میں سے کسی بھی ضلعی حکومت نے بجٹ کی تشکیل کے دوران عوام اور متعلقہ افراد (سٹیک ہولڈر) کی شمولیت کو یقینی نہیں بنایا بجٹ کال لیٹر تاخیر سے جاری کئے گئے اور بجٹ کی ٹائم لائن کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ صرف 4 اضلاع کی طرف سے قبل از بجٹ بیان جاری کیا گیا جس کی نقل عوام کے لئے دستیاب نہیں کی گئی اور تمام اضلاع کی ویب سائٹ غیر فعال پائی گئی۔ اِس جائزے میں 20 میں سے 19 اضلاع میں علیحدہ بجٹ برانچ کی غیر موجودگی کی نشاندہی بھی کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پی ڈی آئی کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ بجٹ سازی کے نئے قوانین بنائے جائیں، بجٹ کیلینڈر پر مکمل عمل کیا جائے اور ضلعی سطح پر بجٹ سازی میں شفافیت اور عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ خلیل رونجھو نے مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومت بجٹ سازی میں متعلقہ افراد (سٹیک ہولڈرز) کی شمولیت کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ قبل از بجٹ بیان جو کہ متعلقہ افراد کو بجٹ سے متعلق تجاویز پر رائے زنی کا موقع فراہم کرتا ہے 20 اضلاع میں سے صرف 4 اضلاع کی طرف سے پیش کیا گیا حکومت کی طرف سے متعلقہ افراد کے ساتھ قبل از بجٹ مشاورت تقریبا 80 فیصد اضلاع میں کی گئی جس میں بنیادی طور پر ضلعی افسران اور منتخب نمائندگان کو شامل کیا گیا، جبکہ شہریوں اور معاشرے کے اہم ارکان کو نظر انداز کیا گیاخلیل رونجھو نے نے شرکا کو بتایا کہ بجٹ ایک انتہائی اہم پالیسی دستاویز ہے۔ دورِ جدید میں حکمرانی اور پالیسی سازی میں فعال عوامی شمولیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔فیڈرل اور صوبائی بجٹ پر نیشنل و صوبائی اسمبلی اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں سیر حاصل بحث کی جاتی ہے، تاہم ضلعی بجٹ کی منطوری میں مکمل خاموشی اور رازداری بروئے کار لائی جاتی ہے۔ اِس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ضلعی بجٹ عوامی گروہوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا میں بحث کے لئے پیش کئے جائیں تا کہ ضلعی ترقی کے ایجنڈے کو مقامی سیاق و سباق میں پرکھا جا سکے۔ اس موقع پر چیئرمین میونسپل کارپوریشن حب رجب علی رند نے شرکا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں بجٹ کا نظام انتہائی ناقص ہے ہمارے صوبے میں بلدیاتی اداروں کو آبادی کی بنیاد پر بجٹ نہیں ملتا بلکہ تمام اداروں کو برابری کے حساب سے بجٹ ملتا ہے اب حب جو کہ 5لاکھ کی آبادی والا شہر ہے اسکا بجٹ چمن جو ایک لاکھ کی آبادی کا شہر ہے کے برابر ہے. انہوں نے کہا کہ ہم اپنا بجٹ تجویز کرنے کیلے ڈی سی سی میٹنگ کا محتاج ہیں ڈی سی سی کی ڈویژنل سطح پر میٹنگ ہوتی ہیں جس میں چھ اضلاع شامل ہیں ایک بھی ضلع میٹنگ میں نہ آیا تو میٹنگ نہیں ہوتی اس لیے ہمیں اپنا بجٹ لینے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں اوپر سے ہم اپنی مرضی سے اسکیمات بھی نہیں دے سکتے. ورکشاپ میں میونسپل کارپوریشن حب کے کونسلران علی اصغر چھٹہ اور عبدالحمید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کارپوریشن حب کے پچھلے بجٹ میں سے 90 لاکھ روپے شہر کے سیوریج لائنوں کے ڈکن لگانے پر مختص کیے گئے تھے مگر سیوریج کا نظام جوں کا توں ہے تو 90 لاکھ کہاں خرچ کیے گئے علی اصغر چھٹہ نے کہا کہ بجٹ میں جو صوابدیدی فنڈز ہوتے ہی انکا بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے اپنے من پسند لوگوں کو دیے جاتے ہیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں انہوں نے مطالبہ کیا عوامی فنڈز کو عوام پر خرچ کرنے کیلے متعلقہ ادارے اسکیمات پر نظر رکھیں اور عوامی فنڈز کو غلط استعمال کرنے والوں سے حساب لیں. ورکشاپ میں لسبیلہ کے ضلعی سوشل آفیسر انور بلوچ. سیکریٹری یونین کونسل حسن پیر لیاقت کھوسہ. امان اللہ لاسی. غلام رسول. سرور رونجہ. داد خان رونجہ. جی آر. نوید لاڈلا رند. فرید دلاری. وڈیرہ امتیاز موندرہ سمیت دیگر سرکاری آفیسران اور سول سائٹی کے ممبران نے شرکت کی.

Published in Daily Qaumi Awaz

حب: وانگ اور سی پی ڈی آئی کے زیراہتمام ضلعی بجٹ سازی سے متعلق ورکشاپ

غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشییٹوز (سی پی ڈی آئی) کے سٹیزن نیٹ ورک برائے بجٹ اکاؤنٹبلٹی کے تحت سماجی تنظیم وانگ کے زیراہتمام ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کانفرنس ہال سوک سنیٹر حب میں کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرمین میونسپل کارپویشن حب کے چیئرمین رجب علی رند نے خطاب کرتے ہوئے کہا موجودہ سٹٹم میں بجٹ کی تیاری و خرچ کرنے میں شدید مسائل ہیں جن کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم بے اختیار ہیں، ہمیں اختیارات حاصل نہیں کہ ہم بنیادی مسائل پر اپنی کونسل کا بجٹ خرچ کر سکیں۔ ڈویژنل کوآرڈنیشن کمیٹی کے ذریعے منظور ہونے والا بجٹ اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے، بجٹ سازی کے عمل کو ریفارم ہونے کی ضرورت ہے تاکہ کمیونٹی کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جاسکے۔

تقریب سے لسبیلہ سول سوسائٹی نیٹ ورک کے امان لاسی، غلام رسول لاسی، فرید دلاری، سوشل ویلفیئر آفیسر محمد انور بلوچ، کونسلرغلام اصغر چھٹہ، کونسلر حمید بلوچ، نوید لاڈلا اور دیگر نے خطاب کیا۔

مقریرین نے اس طرح کی مشاورتی ورکشاپ کے انعقاد کا خیر مقدم کیا اور کہا بجٹ سازی میں علاقے کے مسائل کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے۔ سال کے آخر میں بجٹ ہنگامی بنیادوں پر خرچ کیا جاتا ہے جس سے کام کی پائیداری متاثر ہوتی ہے، لہٰذ ا اس کے لیے ضروری ہے ہر بجٹ کو بروقت بنایا جائے اور بروقت خرچ کیا جائے۔

ورکشاپ کے شرکا سے وانگ کے کوآرڈنیٹر خلیل رونجھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا سینٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشییٹوز (سی پی ڈی آئی) کی طرف سے آغاز کردہ مطالعاتی جائزے کے مطابق سروے میں شامل 20 اضلاع میں سے کسی بھی ضلعی حکومت نے بجٹ کی تشکیل کے دوران عوام اور متعلقہ افراد (سٹیک ہولڈر) کی شمولیت کو یقینی نہیں بنایا۔ بجٹ کال لیٹر تاخیر سے جاری کیے گئے اور بجٹ کی ٹائم لائن کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ صرف 4 اضلاع کی طرف سے قبل از بجٹ بیان جاری کیا گیا جس کی نقل عوام کے لیے دستیاب نہیں کی گئی اور تمام اضلاع کی ویب سائٹ غیر فعال پائی گئی۔ اِس جائزے میں 20 میں سے 19 اضلاع میں علیحدہ بجٹ برانچ کی غیر موجودگی کی نشاندہی بھی کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پی ڈی آئی کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ بجٹ سازی کے نئے قوانین بنائے جائیں، بجٹ کیلینڈر پر مکمل عمل کیا جائے اور ضلعی سطح پر بجٹ سازی میں شفافیت اور عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

خلیل رونجھو نے نے شرکا کو بتایا کہ بجٹ ایک انتہائی اہم پالیسی دستاویز ہے۔ دورِ جدید میں حکمرانی اور پالیسی سازی میں فعال عوامی شمولیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ فیڈرل اور صوبائی بجٹ پہ پراونشنل و صوبائی اسمبلی اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں سیر حاصل بحث کی جاتی ہے، تاہم ضلعی بجٹ کی منطوری میں مکمل خاموشی اور رازداری بروئے کار لائی جاتی ہے۔

اِس اَمر کی اَشد ضرورت ہے کہ ضلعی بجٹ عوامی گروہوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا میں بحث کے لیے پیش کیے جائیں تا کہ ضلعی ترقی کے ایجنڈے کو مقامی سیاق و سباق میں پرکھا جا سکے۔

Published in Haal Hawal

Study of budget making process at district level launched

Sherani: Action for Welfare and Awakening in Rural Environment (AWARE) Organization in collaboration with Center for Peace and Development Initiatives (CPDI) launched a report entitled ‘Study of budget making process at district level’ here in Sherani district.

The session was aimed to identify the loopholes in preparing the district annual fiscal plan, encourage public participation and discourage political interventions. Chief guest of the session was Social Welfare Officer Malik Ehsan-ul-Haq Mandokhail. Stakeholders, government officials, councilors, representatives of non-governmental organizations and media persons attended the ceremony.

Sharing details of the report with the participants Provincial Coordinator CPDI Muhammad Asif and Executive Director AWARE Abid Sherani shed light on report and said it reveals that Budget Call Letters are delayed, budget timeline is not followed properly, not a single district out of 20 surveyed district involves the general public and stakeholders in budget making process, no district has an updated website, only four districts issue pre-budget statements and only one district has a separate budget branch. They termed the budget an important policy document of the government and said that CPDI demands transparency.

Published in Pakistan Observer

خضدار: ضلعی سطع پر بجٹ سازی کے حوالے سے ورکشاپ کا اہتمام

خضدار: سینٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشییٹوز (سی پی ڈی آئی) کی طرف سے آغاز کردہ مطالعاتی جائزے کے مطابق سروے میں شامل 20 اضلاع میں سے کسی بھی ضلعی حکومت نے بجٹ کی تشکیل کے دوران عوام اور متعلقہ افراد (سٹیک ہولڈر) کی شمولیت کو یقینی نہیں بنایاگیا۔ بجٹ کال لیٹر تاخیر سے جاری کئے گئے اور بجٹ کی ٹائم لائن کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ صرف 4 اضلاع کی طرف سے قبل از بجٹ بیان جاری کیا گیا جس کی نقل عوام کے لئے دستیاب نہیں کی گئی اور تمام اضلاع کی ویب سائٹ غیر فعال پائی گئی۔ اِس جائزے میں 20 میں سے 19 اضلاع میں علیحدہ بجٹ برانچ کی غیر موجودگی کی نشاندہی بھی کی گئی۔ ان خیالات کا اظہار سینٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشییٹوز (سی پی ڈی آئی) اور ہیومن پراسپیرٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں منعقدہ ورکشاپ میں کیا گیا۔
ورکشاپ میں بتایا گیا کہ بجٹ سازی کے پہلے مرحلے میں بجٹ طلبی خطوط (بجٹ کال لیٹرز) ستمبر کے مہینے میں جاری ہو جانے چاہیے۔ مطالعاتی جائزے کے مطابق سروے میں شامل اضلاع کے 85 فیصد، یعنی 20 میں سے 17 اضلاع کو صوبائی حکومت کی جانب سے اِس سروے کے آغاز (جون 2018 ؁) تک بجٹ طلبی خطوط (بجٹ کال لیٹر) موصول نہیں ہوئے تھے۔ جبکہ 20 میں سے 3 اضلاع کے حکام نیمختلف اوقات میں بجٹ کال لیٹر موصول ہونے کی تصدیق کی۔ اِن تین اضلاع میں سے ایک ضلع نے 15 نومبر 2017 ؁ سے پہلیبجٹ کال لیٹر موصول کیا، دوسرے ضلع نے15 نومبر 2017 ؁ اور 31 مارچ 2018 ؁ کے درمیان ، جبکہ تیسرے ضلع نے بجٹ کال لیٹر جون 2018 ؁ میں وصول کیا۔بجٹ سازی کے مختلف مراحل میں تاخیر کی وجہ سے صرف 4 اضلاع ہی 30 جون 2017 ؁ سے قبل ڈویژنل کورڈینیشن کمیٹی (ڈی سی سی) سے اپنا بجٹ منظور کروانے میں کامیاب ہوئے۔
سروے کہ مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اضلاع شہریوں کے ساتھ معلومات کی شراکت کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قطعی استعمال نہیں کر رہے اور کسی ایک ضلع کی ویب سائٹ فعال نہیں ہے۔مزید برآں، کسی بھی ضلع نے شہری بجٹ جاری نہیں کیا، جس کا مقصد بجٹ کی نمایاں خصوصیات کو عام فہم زبان میں عوام کے لئے پیش کرناہوتا ہے۔ 19 اضلاع کے حکام نے بتایا کے ان کے ضلع میں علیحدہ بجٹ برانچ کی غیر موجودگی بجٹ کے مختلف مراحل میں تاخیر کاسبب بن سکتی ہے۔ پروگرام میں ڈی ای او خضدارذکریا شاہوانی، ریڈیو پاکستان خضدار کے ڈائیریکٹر سلطان آحمد شاہوانی، ڈاکٹر حضور بخش سمیت خضدار کے سماجی رضاکاروں اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ انہوں نے سی پی آئی اور سی این بی سی کی کوششوں کی تعریف کی۔

Published in Balochistan Point

Local governments fail to include stakeholders in the budget making process

KALAT:  Study has revealed that the local governments (LGs) had failed to include stakeholders in the budget making process. Only 4 out of 20 districts released pre-budget statement that would have provided the stakeholders a chance to express their opinion on budget proposals. This study was shared with participants in a one-day workshop on ‘Study of Budget Making Process at District Level in Balochistan, here in Kalat on Tuesday.   

The ‘Study of Budget Making Process at District Level in Baluchistan ’launched by Centre for Peace and Development Initiatives (CPDI) reveals that Budget Call letters delayed, budget time line is not followed properly, none of the 20 surveyed districts have involved the general public and the stakeholders in budget making. Only 4 districts issued pre-budget statements where the copy was not present for the public, none of the districts has a functional website, 19 out of 20 districts stated that there was no separate budget branch.

Talking about budget transparency, President Human Prosperity organization (HPO) Yousaf Baloch said that districts performance was not enviable at all. Districts are not making use of information technology to share information with citizens; There is not a single district that has a functional website. To aggravate the situation further not a single district issued a citizens’ budget.

“The officials of 19 districts stated that there was no separate budget branch; absence of a separate budget branch could be one of the major causes of delays in budget timelines,” he added.

While talking to the participants of the event Muhammad Asif, provincial coordinator CPDI said that Pre-budget consultation with stakeholders were held in 80% of districts, mainly involving district officers and elected representatives, ignoring citizens and other important segments of society. 

 Ahmed Nawaz Baloch Ex city Nazim, Haleem Mengal, currant opposition leader Municipal Committee(MC) Kalat, District organizer BNP Awami, Haji Qadir Umrani, District assistant Social welfare officie Kalat, Muhammad Iqbal, and secretary general Teacher Association Kalat Agha Athiq Rehman Shah were among the chief participants. The appreciated CPDI’s and HPO efforts for sharing   the study with stakeholders. They emphasized on the dire need of discussion on the district budgets among citizens’ groups, civil society and media for indigenizing the local development agenda. 

Published in The Balochistan Point

چترال میں ضلع سطح پر بجٹ سازی کے حوالے سے ورکشاپ کاانعقاد

چترال۔24 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2018ء) ٹائون ہال چترال میں بجٹ پر مشاورت کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ کاانعقادکیاگیا ،جس میںمنتخب کونسلرز اور یونین کونسل کے دو سیکرٹریو ں نے بھی شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر تیمور شاہ نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اس مشاورتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد صاف اور شفاف طریقے سے بجٹ پیش کرنا ہے اور بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے ترجیحات شامل ہیں جو اہم اورضروری ہیں، سی پی ڈ ی آئی جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے وہ صوبے بھر میں بجٹ پر مشاورتی پروگرام منعقد کروارہے ہیں،اس کا بنیادی مقصد بجٹ سازی پر مشاورت کرنا ہے اور ان مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو نہایت ضروری ہیں۔
مختلف اضلاع میں ضلع سطح پر بجٹ برانچ میں پچاسی آسامیاں خالی ہیں۔

سی پی ڈی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2016 پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور شفافیت کو فروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت یقینی بنایا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے۔

سجاد احمد جو کونسلرز فورم کا صدر بھی ہے نے کہا کہ ہم نے یونین کونسل اور ویلیج کونسل کے سطح پر متعددمنصوبوں کیلئے بجٹ رکھا تھا وہ کئی بار منقطع ہوا اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے،چند منصوبوں کیلئے بہت تاخیر سے پہلا قسط ریلیز ہوئی مگر اس کے بعد دوسرے قسط میں کوئی فنڈ ہی نہیں آیا۔ انہوںنے کہا کہ اب تو ویلیج کونسل کے پانچ لاکھ روپے کے منصوبوں کو بھی ٹینڈر کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ ان پر پانچ ماہ لگتے ہیںاس میں سے اکثر ٹینڈر منسوح بھی ہوجاتا ہے جس پر مزید پانچ ماہ لگتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ اگر ٹینڈر ہوبھی جائے تو بعض اوقات ٹھیکدار غائب ہوجاتا ہے، ویلیج کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کا پہلا مرحلہ بھی ابھی تک نامکمل ہے، ویلیج کونسل کے سطح پر پانچ لاکھ روپے تک منصوبوں کو ٹینڈر کے بغیر پراجیکٹ لیڈر کے ذریعے مکمل کرنا چاہئے تاکہ فنڈ ضائع نہ ہو اور کام بھی معیاری ہو۔اجلاس میں شرکاء کی تعداد کم ہونے پر انجینئر تیمور شاہ نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا

Published in Passu Times